تمہاری چاہت کی چاندنی سے ہر اک شبِ غم سنور گئی ہے

غزل| ضیاؔ جالندھری انتخاب| بزم سخن

تمہاری چاہت کی چاندنی سے ہر اک شبِ غم سنور گئی ہے
سنہری پوروں سے خواب ریزے سمیٹتی ہر سحر گئی ہے
مہکتے جھونکے کے حرفِ تسکیں میں جانی پہچانی لرزشیں تھیں
تمہاری سانسوں کی آنچ کتنی قریب آ کر گزر گئی ہے
اب اس کا چارہ ہی کیا کہ اپنی طلب ہی لا انتہا تھی ورنہ
وہ آنکھ جب بھی اٹھی ہے دامان درد پھولوں سے بھر گئی ہے
نہ تھا نہ ہوگا کبھی میسر سکون جو تیرے قرب میں ہے
یہ وقت کی جھیل جس میں ہر لہر جیسے تھک کر ٹھہر گئی ہے
یہ برف زارِ خیال جس میں نہ صوتِ گل ہے نہ عکسِ نغمہ
تری توجہ سے آتشِ شوق اسی کو گلزار کر گئی ہے
یہ کون دیوانے ریگِ صحرا کو موجۂ خوں سے سینچتے ہیں
کوئی کہو اس جنوں کی اس نو بہار تک بھی خبر گئی ہے

ضیاؔ دلوں میں غبار کیا کیا تھے روئے جی بھر کے جب ملے وہ
وہ ابر برسا ہے اب کے ساون کہ پتی پتی نکھر گئی ہے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام