اچھے اچھے بت کے بندے اب خدا ہونے لگے

غزل| امیر اللہ تسلیمؔ لکھنوی انتخاب| بزم سخن

اچھے اچھے بت کے بندے اب خدا ہونے لگے
عاشق اس کافر ادا کے پارسا ہونے لگے
چاہتا ہوں اتنی میں تاثیر اپنے عشق میں
شرم کے اٹھ جائیں پردے سامنا ہونے لگے
انتہاء کی بے نیازی ابتدائے عشق میں
تم ابھی سے بے مروت بے وفا ہونے لگے
وہ مریضِ غم ہوں صحت کی ہوس تو اک طرف
نام درماں سے تو دردِ دل ہوا ہونے لگے
ڈر ہے بول اٹھے کہیں ان کی طرف ہو کر نہ دل
سامنے اللہ کے جب فیصلہ ہونے لگے
وقتِ آخر ہے انہیں رخصت کرو تسؔلیم اب
کون جانے کیا ہو دم میں کیا سے کیا ہونے لگے



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام