ہزاروں قربتوں پر یوں مرا مہجور ہو جانا

غزل| جگرؔ مراد آبادی انتخاب| بزم سخن

ہزاروں قربتوں پر یوں مرا مہجور ہو جانا
جہاں سے چاہنا ان کا وہیں سے دور ہو جانا
نقابِ روئے نادیدہ کا از خود دور ہو جانا
مبارک اپنے ہاتھوں حسن کو مجبور ہو جانا
سراپا دید ہو کر غرقِ موجِ نور ہو جانا
ترا ملنا ہے خود ہستی سے اپنی دور ہو جانا
نہ دکهلائے خدا اے دیدۂ تر دل کی بربادی
جب ایسا وقت آئے پہلے تو بے نور ہو جانا
جو کل تک لغزشِ پائے طلب پر مسکراتے تهے
وہ دیکهیں آج ہر نقشِ قدم کا طور ہو جانا
محبت کیا ہے تاثیرِ محبت کس کو کہتے ہیں
ترا مجبور کر دینا مرا مجبور ہو جانا

جگرؔ وہ حسن یکسوئی کا منظر یاد ہے اب تک
نگاہوں کا سمٹنا اور ہجومِ نور ہو جانا


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام