ہزاروں قربتوں پر یوں مرا مہجور ہوجانا


16-01-2019 | جگرؔمرادآبادی

ہزاروں قربتوں پر یوں مرا مہجور ہوجانا

جہاں سے چاہنا ان کا وہیں سے دور ہوجانا

نقابِ روئے نادیدہ کا از خود دور ہوجانا

مبارک اپنے ہاتھوں حسن کو مجبور ہوجانا

سراپا دید ہو کر غرقِ موجِ نور ہوجانا

ترا ملنا ہے خود ہستی سے اپنی دور ہوجانا

نہ دکهلائے خدا اے دیدۂ تر دل کی بربادی

جب ایسا وقت آئے پہلے تو بے نور ہوجانا

جو کل تک لغزشِ پائے طلب پر مسکراتے تهے

وہ دیکهیں آج ہر نقشِ قدم کا طور ہوجانا

محبت کیا ہے؟ تاثیرِ محبت کس کو کہتے ہیں

ترا مجبور کردینا ، مرا مجبور ہوجانا

 

جگرؔ! وہ حسن یکسوئی کا منظر یاد ہے اب تک

نگاہوں کا سمٹنا اور ہجومِ نور ہوجانا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
کبھی شاخ و سبزہ و برگ پر کبھی غنچہ و گل و خار پر
ساقی کی ہر نگاہ پہ بل کھا کے پی گیا
کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہزاروں قربتوں پر یوں مرا مہجور ہوجانا