حقیقتِ حسن ۔۔۔خدا سے حسن نے اک روز


11-07-2015 | علامہ محمد اقبالؔ

خدا سے حسن نے اک روز، یہ سوال کیا

ملا جواب کہ....... تصویرِ خانہ ہے دنیا

ہوئی ہے رنگِ تغیر سے جب نمود اس کی

کہیں قریب تھا،..... یہ گفتگو قمر نے سنی

سحر نے تارے سے سن کر.. سنائی شبنم کو

بھر آئے پھول کے آنسو...پیامِ شبنم سے

 

جہاں میں کیوں نہ مجھے، تونے لازوال کیا

شبِ درازِ عدم کا......... فسانہ ہے دنیا

وہی حسیں ہے حقیقت، زوال ہے جس کی

فلک پہ عام ہوئی،....... اخترِ سحر نے سنی

فلک کی بات بتادی..... زمیں کے محرم کو

کلی کا ننھا سا دل........ خون ہو گیا غم سے

 

چمن سے روتا ہوا موسمِ بہار گیا

شباب سیر کو آیا تھا، سوگوار گیا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
کبھی دریا سے مثلِ موج ابھر کر
حقیقتِ حسن ۔۔۔خدا سے حسن نے اک روز
کبھی ائے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
تو رازِ کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہوجا