اداسیوں کا یہ موسم بدل بھی سکتا تھا


09-01-2019 | ندیم رومیؔ

اداسیوں کا یہ موسم بدل بھی سکتا تھا

وہ چاہتا تو مرے ساتھ چل بھی سکتا تھا

وہ زود رنج خفا ہو کے چل دیا ورنہ

تنازعات کا کچھ حل نکل بھی سکتا تھا

انا نے ہاتھ اٹھانے نہیں دیئے ورنہ

مری دعا سے وہ پتھر پگھل بھی سکتا تھا

وہ شخص تو نے جسے چھوڑنے میں عجلت کی

ترے مزاج کے سانچے میں ڈھل بھی سکتا تھا

 

تمام عمر ، ترا منتظر رہا ، رومیؔ !

یہ اور بات وہ رستہ بدل بھی سکتا تھا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
اداسیوں کا یہ موسم بدل بھی سکتا تھا