ہر موڑ نئی اک الجھن ہے قدموں کا سنبھلنا مشکل ہے

غزل| اقبالؔ صفی پوری انتخاب| بزم سخن

ہر موڑ نئی اک الجھن ہے قدموں کا سنبھلنا مشکل ہے
وہ ساتھ نہ دیں پھر دھوپ تو کیا سائے میں بھی چلنا مشکل ہے
یارانِ سفر ہیں تیز قدم اے کشمکشِ دل کیا ہوگا
رکتا ہوں تو بچھڑا جاتا ہوں چلتا ہوں تو چلنا مشکل ہے
اب ہم پہ کھلا یہ رازِ چمن الجھا کے بہاروں میں دامن
کانٹوں سے نکلنا آساں تھا پھولوں سے نکلنا مشکل ہے
تابانئ حسنِ عالم ہے گرمئ محبت کے دم سے
پروانے اگر محفل میں نہ ہوں پھر شمع کا جلنا مشکل ہے
ناکامئ قسمت کیا شئے ہے کیا چیز شکستہ پائی ہے
دو گام پہ منزل ہے لیکن دو گام بھی چلنا مشکل ہے
یا ہم سے پریشاں خوشبو تھی یا بند ہیں اب کلیوں کی طرح
یا مثلِ صبا آوارہ تھے یا گھر سے نکلنا مشکل ہے
یہ میرا مذاقِ تشنہ لبی لے آیا مجھے کس منزل پر
بہکوں تو ہنسے گا میخانہ سنبھلوں تو سنبھلنا مشکل ہے
لکھتے رہے خونِ دل سے جسے تائیدِ نگاہِ دوست میں ہم
اقبالؔ اب اس افسانے کا عنوان بدلنا مشکل ہے



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام