اندھیرے میں بھی وہ سیمیں بدن ایسا دمکتا تھا

غزل| خاورؔ احمد انتخاب| بزم سخن

اندھیرے میں بھی وہ سیمیں بدن ایسا دمکتا تھا
میں اس کی روشنی میں ساری دنیا دیکھ سکتا تھا
میں اس تصویر کو تکتے ہوئے تصویر بن جاتا
مری پلکیں جھپکتی تھیں نہ میرا دل دھڑکتا تھا
جہاں وہ پاؤں رکھتا تھا وہاں پر پھول کھل جاتے
وہاں شعلہ لپک جاتا جہاں وہ ہونٹ رکھتا تھا
کہاں دنیا سے چھپ سکتی تھی آمد موسمِ گل کی
وہ آتا ایک دن تو گھر مہینوں تک مہکتا تھا

اسے کیا ڈھونڈتا خاورؔ مگر جب تیرگی بڑھتی
فلک پر وہ ستارہ خود کہیں سے آ چمکتا تھا


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام