وہیں ہیں دل کے قرائن تمام کہتے ہیں

فیض احمد فیضؔ
وہیں ہیں دل کے قرائن تمام کہتے ہیں
وہ اک خلش کہ جسے تیرا نام کہتے ہیں
تم آ رہے ہو کہ بجتی ہیں میری زنجیریں
نہ جانے کیا مرے دیوار و بام کہتے ہیں

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام