وہیں ہیں دل کے قرائن تمام کہتے ہیں


23-11-2016 | فیض احمد فیضؔ

وہیں ہیں دل کے قرائن تمام کہتے ہیں

وہ اک خلش کہ جسے تیرا نام کہتے ہیں

 

تم آ رہے ہو کہ بجتی ہیں میری زنجیریں

نہ جانے کیا مرے دیوار و بام کہتے ہیں




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
تم آئے ہو نہ شبِ انتظار گزری ہے
شامِ فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی
گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے
نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی نہ کسی کو فکر رفو کی ہے
وہیں ہیں دل کے قرائن تمام کہتے ہیں