اور تو کوئی بس نہ چلے گا ہجر کے درد کے ماروں کا


18-11-2016 | ابن انشاءؔ

اور تو کوئی بس نہ چلے گا ، ہجر کے درد کے ماروں کا

صبح کا ہونا ۔۔ دوبھر کردیں ۔۔ رستہ روک ستاروں کا

جھوٹے سکّوں میں بھی اُٹھا ۔۔ دیتے ہیں اکثر سچا مال

شکلیں دیکھ کے سودا کرنا ۔۔۔ کام ہے ان بنجاروں کا 

اپنی زباں سے کچھ نہ کہیں گے چپ ہی رہینگےعاشق لوگ

تم سے تو اتنا ہوسکتا ہے ۔۔ پوچھو حال بے چاروں کا

ایک ذرا سی بات تھی جس کا ۔۔ چرچا پہنچا ، گلی ، گلی

ہم گم ناموں نے پھر بھی ۔۔۔ احسان نہ مانا یاروں کا

درد کا کہنا ۔۔ چیخ اُٹھو ! ، دل کا تقاضا ۔۔ وضع نبھاؤ !

سب کچھ سہنا چپ چپ رہنا کام ہے عزت داروں کا

انشاؔ ، اب انہی اجنبیوں میں ۔۔ چین سے باقی عمر کٹے

جن کے خاطر بستی چھوڑی ۔۔ نام نہ لو اُن پیاروں کا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
اور تو کوئی بس نہ چلے گا ہجر کے درد کے ماروں کا
انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو
دل عشق میں بے پایاں ، سودا ہو تو ایسا ہو
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا