ہر پھول تمہارا ہے ہر خار ہمارا ہے

غزل| نسیمؔ بریلوی انتخاب| بزم سخن

ہر پھول تمہارا ہے ہر خار ہمارا ہے
گلشن کے لئے ہم کو یہ ضد بھی گوارا ہے
تم محوِ تماشا ہو میں غرقِ تلاطم ہوں
کیا صرف دِکھاوے کا اخلاص تمہارا ہے
بڑھتے ہیں قدم میرے انجان سی راہوں پر
یہ کس نے صدا دی ہے یہ کس نے پکارا ہے
میں جوشِ محبت میں اتنا نہ تھا دیوانہ
تم نے مری وحشت کو دانستہ اُبھارا ہے
مانوس نسیمؔ اتنا اب دل ہے مرا غم سے
دنیائے محبت کا ہم غم مجھے پیارا ہے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام