تہمتیں چند اپنی ذمّے دھر چلے

غزل| خواجہ میر دردؔ انتخاب| بزم سخن

تہمتیں چند اپنی ذمّے دھر چلے
جس لئے آئے تھے سو ہم کر چلے
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
کیا ہمیں کام ان گلوں سے ائے صبا
ایک دم آئے اِدھر اُودھر چلے
دوستو دیکھا تماشا یاں کا بس
تم رہو اب ہم تو اپنے گھر چلے
شمع کے مانند ہم اس بزم میں
چشمِ نم آئے تھے دامن تر چلے
ساقیا یاں لگ رہا ہے چل چلاؤ
جب تلک بس چل سکے ساغر چلے
دردؔ کچھ معلوم ہے یہ لوگ سب
کس طرف سے آئے تھے کیدھر چلے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام