انداز ہو بہو تری آوازِ پا کا تھا


10-10-2016 | احمد ندیمؔ قاسمی

انداز ہو بہو ۔۔۔ تری آوازِ پا کا تھا

دیکھا نکل کے گھر سے تو جھونکا ہوا کا تھا

اس حسنِ اتفاق پہ لُٹ کربھی شاد ہوں

تیری رضا جو تھی وہ ،  تقاضا وفا کا تھا

دل راکھ ہوچکا ۔۔ تو چمک اور بڑھ گئی

یہ تیری یاد تھی ۔۔ کہ عمل کیمیا کا تھا

اس رشتۂ لطیف کے اسرار کیا کہیں

تُو سامنے تھا ۔۔۔ اور تصور خدا کا تھا

چھپ چھپ کے روؤں اورسرِانجمن ہنسوں

مجھ کو یہ مشورہ مرے درد آشنا کا تھا

اُٹھا عجب تضاد سے ۔۔ انسان کا خمیر

عادی فنا کا تھا ۔۔۔ تو پجاری بقا کا تھا

ٹوٹا ، تو کتنے آئینے خانوں پہ زد پڑی

اٹکا ہوا گلے میں ، جو پتھر صدا کا تھا

 

حیران ہوں کہ دار سے کیسے بچا ندیمؔ

وہ شخص تو غریب و غیور انتہا کا تھا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
انداز ہو بہو تری آوازِ پا کا تھا
میں وہ شاعر ہوں جو شاہوں کا ثناخواں نہ ہوا
جانے یہ محّبت کیا شے تھی تڑپا بھی گئی تھپکا بھی گئی
عشق کرنے کا یہی وقت ہے ، ائے انسانو
کسے معلوم تھا اس شئے کی تجھ میں بھی کمی ہوگی