خنجر کی طرح بوئے سمن تیز بہت ہے

غزل| مجروحؔ سلطان پوری انتخاب| بزم سخن

خنجر کی طرح بوئے سمن تیز بہت ہے
موسم کی ہوا اب کے جنوں تیز بہت ہے
راس آئے تو ہر سر پہ بہت چھاؤں گھنی ہے
ہاتھ آئے تو ہر شاخ ثمر بیز بہت ہے
لوگو مری کِلکاریٔ وحشت کا صلہ کیا
دیوانے کو اک حرف دل آویز بہت ہے
منعم کی طرح پیرِ حرم پیتے ہیں وہ جام
رندوں کو بھی جس جام سے پرہیز بہت ہے
مصلوب ہوا کوئی سرِ راہ تمنا
آوازِ جرس پچھلے پہر تیز بہت ہے
مجروحؔ سنے کون تری تلخ نوائی
گفتارِ عزیزاں شکر آمیز بہت ہے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام