ہر لب پہ ہے تیری ثنا ، ہر بزم میں چرچا ترا


08-07-2015 | عبد العلیم شاہینؔ

ہر لب پہ ہے تیری ثنا،...... ہر بزم میں چرچا ترا

ہر سمت ہیں جلوے ترے ، چاروں طرف شہرا ترا

 

 

ہر بُوند میں بارش کی تو،..... بادل ترے، دریا ترا

گلشن کے ہر غنچے میں تو،.... جنگل ترے، صحرا ترا

شبنم کے ہر قطرے میں تو،.... بلبل کا ہے نغمہ ترا

ہر شئے میں ہے پر تُو مگر،...... کوئی نہیں چہرا ترا

 

 

مٹی تری، پانی ترا،........ موسم ترے، دانہ ترا

بندوں اپنے ائے خدا!....... احسان ہے کتنا ترا

مہتاب اور انجم ترے،... سورج ترا،... ذرہ ترا

ائے کاش میں بھی ہو رہوں، ہر حال میں بندہ ترا

 
 

فکریں تری، جذبے ترے... پیکر ترے، نقشہ ترا

اپنی بساطِ فکر کیا،...... جو سوچتے..... کیا کیا ترا

یہ دن یہ سورج کی تپش، یہ شب یہ شب کی چاندنی

یہ اہتمامِ روز و شب.... میرے خدا !.... تنہا ترا

 
   

توصیف کا حق ائے خدا !... شاہیںؔ سے ہو کیوںکر ادا

بے مثل صنّاعی تری،........... ہر نقش تابندہ ترا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
زہے قسمت ! زباں پہ جس کی ذکرِمصطفی ہوگا
جو دل میں رکھتا ہے میرے لئے عناد بہت
چلتے چلتے ہیں پڑے پاؤں میں چھالے کتنے
خواب اس کا خیال اس کا ہے
افکار کی لذت کیا کہنا جذبات کا عالم کیا کہنا