لطفِ نگاہِ ناز کی تہمت اُٹھائے کون

غزل| شکیلؔ بدایونی انتخاب| بزم سخن

لطفِ نگاہِ ناز کی تہمت اُٹھائے کون
کچھ دیر کی بہار کو خاطر میں لائے کون
مانا حریمِ ناز کے پردوں میں ہے کوئی
لیکن حریمِ ناز کے پردے اُٹھائے کون
پڑ جائے لاکھ وقت مگر یہ نہیں قبول
میں دیکھتا رہوں کہ مرے کام آئے کون
کیسی بہار کس کے ستارے کہاں کے پھول
جب تم نہیں تو دیدہ و دل میں سمائے کون
ذوقِ عمل نہ ذوقِ جنوں ہر طرف سکوں
جنت اگر یہی ہے تو جنت میں جائے کون
محفل میں کوئی سوختہ جاں ہی نہیں شکیلؔ
سوز و گدازِ شمع پر آنسو بہائے کون


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام