ایسا لگتا ہے چمن میں پھر بہار آنے کو ہے


19-09-2016 | ابن حسؔن بھٹکلی

ایسا لگتا ہے چمن میں پھر بہار آنے کو ہے

تتلیو! ۔۔۔ تیار رہنا ، میرا یار آنے کو ہے

شاخِ گل بے تاب ہے خُرّم طرازی کے لئے

یعنی پژمردہ گلوں پر بھی نکھار آنے کو ہے

جب سے بلبل دے گئی ہے اُسکے آنے کی نوید

ہر کوئی کہتا ہے ، اپنا غم گسار آنے کو ہے

دھڑکنیں بھی کہہ رہی ہیں مرحبا صد مرحبا

قلبِ مضطر کو یقیناً ۔۔ اب قرار آنے کو ہے

عشقِ صادق منکشف کردے گا اسرارورموز

مَرغزارِ حُسن کا وہ ۔۔ راز دار آنے کو ہے

کہنے والے تو یہاں تک کہہ رہے ہیں فخر سے

دستِ قدرت کا انوکھا شاہ کار آنے کو ہے

 

اُس کی چاہت صرف یک طرفہ نہیں ابنِ حسنؔ

اب محبت پر مجھے بھی ۔۔ اعتبار آنے کو ہے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
ہماری لغزشیں کرتی ہیں ان کی پرورش ورنہ
قناعت کی نظر سے بچ کے جب خواہش نکلتی ہے
ایسا لگتا ہے چمن میں پھر بہار آنے کو ہے
زباں پر جب حبیبِ کبریا کا نام آتا ہے
وقت آخر ٹہر گیا کیسے؟