پھر آپ نے دیکھا ہے محبت کی نظر سے

غزل| مظہرؔ امام انتخاب| بزم سخن

پھر آپ نے دیکھا ہے محبت کی نظر سے
گزرے نہ کہیں گردشِ دوراں بھی ادھر سے
پوچھیں تو ذرا پیچ و خمِ راہ کی باتیں
کچھ لوگ ابھی لوٹ کے آئے ہیں سفر سے
شاید کہیں سورج کی کرن شام کو پھوٹے
ہم شمع جلائے ہوئے بیٹھے ہیں سحر سے
لوگو مری آشفتہ سری پر نہ کرو طنز
الزام اتارو کوئی اس زلف کے سر سے
تارے تو چمک اپنی دکھاتے ہیں سحر تک
دل ڈوبنے لگتا ہے مگر پچھلے پہر سے
غیروں کے جہاں تیری عنایت سے ہیں سیراب
ائے کاش یہ بادل مری دنیا پہ بھی برسے



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام