ہمیں کیا آپ انجامِ محبت سے ڈراتے ہیں


25-06-2016 | قابلؔ اجمیری

ہمیں کیا آپ انجامِ محبت سے ڈراتے ہیں

ہمارے خون سے ہر دور کا آغاز ہوتا ہے

 

پگھل جاتی ہیں زنجیریں سلگ اٹھتی ہیں دیواریں

لبِ خاموش میں ۔۔۔ وہ شعلۂ آواز ہوتا ہے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
تضادِ جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کروگے
حوادث ہم سفر اپنے تلاطم ہم عناں اپنا
ہمیں کیا آپ انجامِ محبت سے ڈراتے ہیں
مدتوں ہم نے غم سنبھالے ہیں
اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں