ترا شیوہ کرم ہے اور مری عادت گدائی کی


20-06-2015 | محترمہ خیرالنساء بہترؔ

ترا شیوہ کرم ہے...... اور مری عادت گدائی کی

ترے دربار سے مایوس...... پھر جائیں بھلا کیونکر

ادھر بھی ابرِ رحمت آئے اور جم جم کے یوں برسے

خزاں میں بھی شجر... سرسبز ہو کر پھول بھی لائیں

مری  اولاد  کو  تو.....  یا  الہی.....!  اتنی  ہمت  دے

انہیں کے علم اور اقبال کی شہرت ... جہاں میں ہو

ابوبکر وعمر ،........ عثماں علی میں جتنے جوہر تھے

 

نہ ٹوٹے آس ائے مولا ترے در کے فقیروں کی

کہ تو کرتا رہا ہے ... خواہشیں پوری حریصوں کی

کہ ہو سرسبز کھیتی ہم غریبوں ..... بد نصیبوں کی

ہو شہرت باغباں کی، باغ کی غنچوں کی پھولوں کی

کہ ہو کر قوتِ بازو....... خبر لیں ہم ضعیفوں کی

ہے شہرت جیسے عالم میں... نبی کے ہم نشینوں کی

وہی جوہر ہو ان میں اور وہی فطرت ،کریموں کی

ترے دربار  سے بہترؔ کی،..... بھی امید بر آئے

علیؔ ٹھنڈک ہو آنکھوں کی علیؔ راحت ہو سینوں کی

 

علیؔ : مفکرِ اسلام جناب حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔

محترمہ خیر النساء بہترؔ صاحبہ ۔۔۔آپ رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ تھیں اور یہ مناجات انہوں نے آپ ہی کے حق میں لکھی ہیں




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
ترا شیوہ کرم ہے اور مری عادت گدائی کی