قناعت کی نظر سے بچ کے جب خواہش نکلتی ہے


01-06-2016 | ابن حسؔن بھٹکلی

قناعت کی نظر سے بچ کے جب خواہش نکلتی ہے

تو میرے دل میں پھر تھوڑی سی گنجائش نکلتی ہے

میں جس کو میرے اپنوں کی محبت مان لیتا ہوں

کبھی جب تصفیہ ہوتا ہے ۔۔ وہ سازش نکلتی ہے

وہ جگنو ہے ۔۔ چمکنا بس اسی کا وصف ہے ورنہ

یونہی ہر اک پتنگے سے ۔۔ کہاں تابش نکلتی ہے

کسی کے ظرف کی وسعت کوئی جانے تو کیا جانے

کہاں سے اور کہاں تک اس کی پیمائش نکلتی ہے

سمندر سوکھنے لگتا ہے جب سورج کی حدت سے

تو پھر ۔۔ سیراب کرنے کے لئے بارش نکلتی ہے

مجھے ابن حسنؔ کچھ اور ہی کرنے کی خواہش ہے

مگر ۔۔۔ حالات کی کچھ اور ۔۔ فرمائش نکلتی ہے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
وقت آخر ٹہر گیا کیسے؟
سب کچھ دھواں دھواں تھا مگر دیکھتے رہے
مضطرب ہوں ، قرار دے اللہ
عید قرباں اصل میں ایثار ابراہیم ہے
قناعت کی نظر سے بچ کے جب خواہش نکلتی ہے