گریباں چاک محفل سے نکل جاؤں تو کیا ہوگا


18-05-2016 | مخدومؔ محی الدین

گریباں چاک محفل سے نکل جاؤں ۔۔۔ تو کیا ہوگا

تری آنکھوں سے آنسو بن کے ڈھل جاؤں تو کیا ہوگا

جنوں کی لغزشیں خود ۔۔ پردہ دارِ رازِ الفت ہیں

جو کہتے ہیں سنبھل جاؤ ، سنبھل جاؤں تو کیا ہوگا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
گریباں چاک محفل سے نکل جاؤں تو کیا ہوگا
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
عشق کے شعلے کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے