اردو ہے مرا نام ، میں خسروؔ کی پہیلی


17-06-2015 | اقبال اشہرؔ

اردو ہے مرا نام،....... میں خسروؔ کی پہیلی

میں میؔر کی ہمراز ہوں،..... غالبؔ کی سہیلی

دکن میں ولیؔ نے ... مجھے گودی میں کِھلایا

سوداؔ کے قصیدوں نے... مرا حسن بڑھایا

ہے میؔر کی عظمت ..... کہ مجھے چلنا سکھایا

میں داغؔ کے آنگن میں کِھلی بن کے چمیلی

میں میؔر کی ہمراز ہوں ، غالبؔ کی سہیلی

 

غالبؔ نے ... بلندی کا سفر ... مجھ کو سکھایا

حالیؔ نے ... مروت کا سبق ..... یاد دلایا

اقبالؔ نے ... آئینۂ حق ..... مجھ کو دکھایا

مومنؔ نے سجائی میرے خوابوں کی حویلی

میں میؔر کی ہمراز ہوں ، غالبؔ کی سہیلی

 

ہے ذوقؔ کی عظمت .. کہ دئیے مجھ کو سہارے

چکبستؔ کی الفت نے مرے خواب سنوارے

فانیؔ نے .... سجائے مری .... پلکوں پہ ستارے

اکبرؔ نے ..... رچائی میری ..... بے رنگ ہتیلی

میں میؔر کی ہمراز ہوں ، غالبؔ کی سہیلی

 

کیوں مجھ کو .... بناتے ہو ... تعصب کا نشانہ

میں نے تو کبھی ..... خود کو مسلماں نہیں مانا

دیکھا تھا کبھی .. میں نے بھی خوشیوں کا زمانہ

اپنے ہی وطن ... میں ہوں مگر ... آج اکیلی

میں میؔر کی ہمراز ہوں ، غالبؔ کی سہیلی

 

اردو ہے مرا نام،....... میں خسروؔ کی پہیلی

میں میؔر کی ہمراز ہوں،..... غالبؔ کی سہیلی




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
تمہاری خوشبو تھی ہم سفر تو ہمارا لہجہ ہی دوسرا تھا
اردو ہے مرا نام ، میں خسروؔ کی پہیلی