کیا کیا ہے عرض کرنا ، یہ عرض پھر کروں گا


19-04-2016 | امیر الاسلام ہاشمیؔ

کیا کیا ہے عرض کرنا ، یہ عرض پھر کروں گا

پھر عرض کیا کروں گا یہ عرض پھر کروں گا

جب تک رہے گا رسہ ۔۔ رسہ کشی رہے گی

کب تک رہے گا رسہ  یہ عرض پھر کروں گا

رشوت جو روکنا ہے ۔۔۔ جائز اسے کرا لو

یہ جائزہ ہے کس کا ، یہ عرض پھر کروں گا

تعویذ تو ۔۔ دیا تھا ۔۔۔ لڑکے کا پیر جی نے

تعویذ نے دیا کیا ۔۔۔ یہ عرض پھر کروں گا

چھوڑا ہے جب سے پردہ مردا گئی ہے عورت

ردّ و بدل ہے کیا کیا ، یہ عرض پھر کروں گا

لڑکی ۔۔ کلاس کی تھی ، لڑکا ۔۔۔ کلاس کا تھا

اب کس کلاس کا تھا ، یہ عرض پھر کروں گا

 

اہلِ نظر کوشک ہے ۔۔ سرمہ نہیں لگاتا

یہ ہاشمیؔ ہے کیسا ، یہ عرض پھر کروں گا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
کیا کیا ہے عرض کرنا ، یہ عرض پھر کروں گا
ٹوٹا تھا گھر میں کیا کیا یہ عرض پھر کروں گا