دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو


31-03-2016 | ابن انشاءؔ

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو

اس بات سے ہم کو کیا مطلب یہ کیسے ہو یہ کیونکر ہو

اک بھیک کے دونو  کاسے ہیں اک پیاس کے دونو  پیاسے ہیں

ہم کھیتی ہیں ، تم بادل ہو ۔۔ ہم ندیاں ہیں ، تم ساگر ہو

یہ دل ہے کہ جلتے سینے میں اک درد کا پھوڑا الہڑ سا

نا گپت رہے ، نا پھوٹ بہے ، کوئی مرہم کوئی نشتر ہو

ہم سانجھ سمے کی چھاپا ہیں ۔۔ تم چڑھتی رات کے چندرما

ہم جاتے ہیں تم آتے ہو ، پھر میل کی صورت کیونکر ہو

اب حسن کا رتبہ عالی ہے اب حسن سے صحرا خالی ہے

چل بستی میں بنجارہ بن ۔۔ چل نگری میں سوداگر ہو

جس چیز سے تجھ کو نسبت ہے جس چیز کی تجھ کو چاہت ہے

وہ سونا ہے ۔۔ وہ ہیرا ہے ۔۔۔ وہ ماٹی ہو ۔۔ یا کنکر ہو

اب انشاؔ جی کو ۔۔ بلانا کیا ۔۔ اب پیار کے دیپ ۔۔ جلانا کیا

جب دھوپ اور چھایا ایک سے ہوں جب دن اور رات برابر ہو

وہ راتیں چاند کے ساتھ گئیں وہ باتیں چاند کے ساتھ گئیں

اس سکھ کے سپنے کیا دیکھیں جب دکھ کا سورج سر پر ہو




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
اور تو کوئی بس نہ چلے گا ہجر کے درد کے ماروں کا
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
دل عشق میں بے پایاں ، سودا ہو تو ایسا ہو
دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو