حقیقتِ حسن ۔ ۔ ۔ ۔حسن کاکل میں نہ گیسوئے


20-03-2016 | کلیم احمد عاجزؔ

حسن کاکل میں نہ گیسوئے شکن دار میں ہے

نہ یہ ابرو کی لچکتی ہوئی ۔۔۔ تلوار میں ہے

نہ یہ موجود ہے ۔۔ خم ڈالی ہوئی زلفوں میں

مانگ میں ہے نہ یہ پیشانیٔ گل نار میں ہے

نہ یہ کاجل میں نہ یہ سرمے کی ہے تحریروں میں

نہ یہ مژگاں میں نہ یہ چشمِ فسوں کارمیں ہے

تابشِ غازہ ۔۔۔ نہ یہ ۔۔۔ سرخیٔ گلگونہ میں

لبِ شیریں میں نہ یہ آئینۂ رخسار میں ہے

نہ گہر جیسے ۔۔۔ چمکتے ہوئے یہ دانتوں میں

نہ یہ غنچہ سے مشابہ ۔۔ دہنِ یار میں ہے

نہ یہ پوشیدہ ہے ، لہراتے ہوئے آنچل میں

نہ قبا میں یہ ۔۔  نہ پیراہنِ زرکار میں ہے

چوڑیوں کی ۔۔ نہ کھنکتی ہوئی آوازوں میں

نہ مچلتی ہوئی ۔۔ پازیب کی جھنکار میں ہے

یہ تو وہ حسن ہے جس کا ہے زمانہ محدود

یہ جوانی کی مقید ۔۔ در و دیوار ۔۔میں ہے

ایسا یوسف کہ طلب جس کی تمنا جس کی

ہر زمانے میں ہر اک دور کے بازار میں ہے

 

جس کی قیمت کبھی اُترے ۔۔۔ نہ لطافت جائے

حسن وہ دل میں ہے سیرت میں ہے کردار میں ہے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
رات جی کھول کے پھر میں نے دعا مانگی ہے
جس پر بھی جوانی آتی ہے اور تھوڑا جمال آجاتا ہے
بے کلی ہے اور دلِ ناشاد ہے
وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اُسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا
ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھی