کبھی خزاں کبھی فصلِ بہار دیتا ہے


13-06-2015 | عبد العلیم شاہینؔ

کبھی خزاں....... کبھی فصلِ بہار .... دیتا ہے

وجودِ ذات کا .............. وہ اعتبار دیتا ہے

 

کہیں پہ حسن کے نقشے........ سنوار دیتا ہے

کہیں وہ عشق کے جذبے....... ابھار دیتا ہے

 

کسی کو دیتا ہے..........توفیقِ منزلِ مقصود

کسی کو راہ کے.......... گرد و غبار دیتا ہے

 

کسی کو موت کے نرغے میں بخشتا ہے حیات

کسی کو زیست کی باہوں..... میں مار دیتا ہے

 

کسی کو دولتِ ایماں....... کسی کو کفر نصیب

کہیں گمان .............. کہیں اعتبار دیتا ہے

 

نہیں  ہے اس کی ....... عطاؤں کا کوئی اندازہ

بغیر مانگے بھی........... وہ بے شمار دیتا ہے

 

بہت عزیز ہے اس کو........... ندامتوں کی نمی

گرے جو آنکھ سے......... غصہ بھی ہار دیتا ہے

 

مرا کمال نہیں ہے.............. اسی کا فیض ہے یہ

شعورِ شعر بھی ................. پروردگار دیتا ہے

 

اسی کی یاد سے ہوتی ہے.......... روح کی تسکین

اسی کا ذکر....... دلوں کو قرار......... دیتا ہے

 

اسی کی زیست ہے..... شاہیںؔ...... اجل اسی کی ہے

رضائے حق پہ جو.... سب اپنا.......... وار دیتا ہے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
یا محمد! آپ کی کچھ ایسی یاد آئی کہ بس
چلتے چلتے ہیں پڑے پاؤں میں چھالے کتنے
ہر لب پہ ہے تیری ثنا ، ہر بزم میں چرچا ترا
خواب اس کا خیال اس کا ہے
دوستی امن محبت کی زباں ہے اردو