کسی کا ساتھ نبھانا تھا اور کیا کرتا

ابن حسؔن بھٹکلی
کسی کا ساتھ نبھانا تھا اور کیا کرتا
چلا گیا اسے جانا تھا اور کیا کرتا
اُسی کے نقشِ قدم پر تھا گامزن میں بھی
اُسی کے ساتھ زمانہ تھا اور کیا کرتا
نحیف ہوتا تو کب کا معاف کردیتا
مرا حریف توانا تھا اور کیا کرتا
جدید بزم تھی پھر بھی وہاں نہیں ٹہرا
مرا مزاج پرانا تھا اور کیا کرتا
میں شکل شکل اُسی کو تلاش کرتا رہا
یہی تو ایک بہانہ تھا اور کیا کرتا
تمام رات چراغوں سے دور دور رہا
جلا جلا کے بجھانا تھا اور کیا کرتا
خلوص اس کا فقط اس لئے تھا ابنِ حسنؔ
کہ اشتہار میں آنا تھا اور کیا کرتا

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام