نہ جاں بازوں کا مجمع تھا نہ مشتاقوں کا میلا تھا

غزل| شادؔ عظیم آبادی انتخاب| بزم سخن

نہ جاں بازوں کا مجمع تھا نہ مشتاقوں کا میلا تھا
خدا جانے کہاں مرتا تھا میں جب تو اکیلا تھا
گھروندا یوں کھڑا تو کر لیا ہے آرزوؤں کا
تماشا ہے جو وہ کہہ دیں کہ میں ایک کھیل کھیلا تھا
ہمیشہ حسرتِ دیدار پر دل نے قناعت کی
بڑے در کا مجاور تھا بڑے مرشد کا چیلا تھا
بہت سستے چُھٹے ہم جان دے کر مل گیا ساغر
یہ سودا وہ ہے جس میں کیا کہیں کیا کیا جھمیلا تھا

تماشا گاہِ دنیا میں بتاؤں کیا امیدوں کی
تنِ تنہا تھا میں ائے شادؔ اور ریلے پہ ریلا تھا


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام