اک عمر تیرے ہجر میں ظالم گذر گئی

غزل| نریش کمار شادؔ انتخاب| بزم سخن

اک عمر تیرے ہجر میں ظالم گذر گئی
ائے مرگِ نامراد! کہیں تو بھی مر گئی
ذرے میں آفتابِ درخشاں سما گیا
تیری نگاہ جب مرے دل میں اتر گئی
ہونے لگا ترا ہی گماں اپنے آپ پر
اپنی طرف جب اہلِ نظر کی نظر گئی
افسوس تو بھی میری طرح دل فگار ہے
تجھ پر بھی زندگی وہی بیداد کر گئی
وہ رات جو کٹی تری زلفوں کی چھاؤں میں
وہ رات ایک رات سے پہلے گذر گئی
یہ تیری یاد ہے کہ شبِ ماہتاب ہے
اک روشنی سی حدِّ نظر تک بکھر گئی
تجھ کو خبر نہیں تری سادہ سی اک نظر
تصویرِ زندگی میں کئی رنگ بھر گئی
مانا یہ دور فہم و فراست کا دور ہے
لیکن جو زندگی میں کشش تھی کدھر گئی
اُس زندگی کے حسن کی تابندگی نہ پوچھ
جو حادثوں کی دھوپ میں تپ کرنکھر گئی
کچھ میکشی کو اس نے بھی رسوا کیا مگر
کچھ مے کشی بھی شادؔ کو بدنام کر گئی


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام