سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں

غزل| فیض احمد فیضؔ انتخاب| بزم سخن

سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں
ہم لوگ سرخرو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں
شمعِ نظر خیال کے انجم جگر کے داغ
جتنے چراغ ہیں تری محفل سے آئے ہیں
اُٹھ کر تو آگئے ہیں تری بزم سے مگر
کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں
ہر اک قدم اجل تھا ہر اک گام زندگی
ہم گھوم پھر کے کوچۂ قاتل سے آئے ہیں

بادِ خزاں کا شکر کرو فیضؔ جس کے ہاتھ
نامے کسی بہارِ شمائل سے آئے ہیں


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام