نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے

غزل| خمارؔ بارہ بنکوی انتخاب| بزم سخن

نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے
دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے
سکوں ہی سکوں ہے خوشی ہی خوشی ہے
ترا غم سلامت مجھے کیا کمی ہے
کھٹک گدگدی کا مزا دے رہی ہے
جسے عشق کہتے ہیں شاید یہی ہے
چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں
نیا ہے زمانہ نئی روشنی ہے
جفاؤں پہ گھُٹ گھُٹ کے چُپ رہنے والو
خموشی جفاؤں کی تائید بھی ہے
مرے راہبر! مجھ کو گمراہ کر دے
سنا ہے کہ منزل قریب آ گئی ہے
خمارِؔ بلا نوش! تُو اور توبہ!
تجھے زاہدوں کی نظر لگ گئی ہے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام