لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری


11-06-2015 | علامہ محمد اقبالؔ

لب پہ آتی ہے دعا ........ بن کے تمنا میری

زندگی شمع کی ........ صورت ہو خدایا میری

 

 

 

 

دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے

ہر جگہ میرے چمکنے سے ... اجالا ہو جائے

ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت

جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت

 

 

 

 

 

 

زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب

علم کی شمع سے ...... ہو مجھ کو محبت یا رب

ہو مرا کام .......... غریبوں کی حمایت کرنا

درد مندوں سے .. ضعیفوں سے .. محبت کرنا

 

 

 

مرے اللہ! ..... برائی سے بچانا مجھ کو

نیک جو راہ ہو ..... اس رہ پہ چلانا مجھ کو




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
میں سوئی جو اِک شب تو دیکھا یہ خواب
کبھی ائے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صبح گاہی​
حقیقتِ حسن ۔۔۔خدا سے حسن نے اک روز