انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا


03-02-2016 | ابن انشاءؔ

انشاؔ جی اٹھو، اب کوچ کرو ، اس شہر میں جی کو لگانا کیا

وحشی کو سکوں سے کیا مطلب، جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا

اس دل کے دریدہ دامن کو ، دیکھو تو سہی ، سوچو تو سہی

جس جھولی میں سو چھید ہوئے ۔۔۔ اس جھولی کا پھیلانا کیا

شب بیتی، چاند بھی ڈوب چلا، زنجیر پڑی دروازے میں

کیوں دیر گئے گھر آئے ہو ۔۔ سجنی سے کروگے بہانا کیا

پھر ہجر کی لمبی رات میاں ۔۔سنجوگ کی تو یہی ایک گھڑی

جو دل میں ہے لب پر آنے دو ۔۔۔ شرمانا کیا ، گھبرانا کیا

اُس روز جو ان کو دیکھا ہے، اب خواب کا عالم لگتا ہے

اس روز جو ان سے بات ہوئی وہ بات بھی تھی افسانہ کیا

اس حسن کے سچے موتی کو ، ہم دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں

جسے دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں وہ دولت کیا ، وہ خزانہ کیا

اس کو بھی جلا دُکھتے ہوئے من اک شعلہ لال بھبوکا بن 

یوں آنسو بن بہہ جانا کیا ۔۔۔ یوں ماٹی میں مل جانا کیا

جب شہرکے لوگ نہ رستہ دیں کیوں بن میں نہ جابسرام کرے

دیوانوں کی سی نہ بات کرے ۔۔۔ تو اور کرے دیوانہ کیا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
انشاؔ جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
اور تو کوئی بس نہ چلے گا ہجر کے درد کے ماروں کا
دل عشق میں بے پایاں ، سودا ہو تو ایسا ہو