ایسی آسانی سے قابو میں کہاں آتی ہے آگ

غزل| حفیظؔ میرٹھی انتخاب| بزم سخن

ایسی آسانی سے قابو میں کہاں آتی ہے آگ
جب بھڑکتی ہے تو بھڑکے ہی چلی جاتی ہے آگ
خاک سرگرمی دِکھائے بے حسی کے شہر میں
برف کے ماحول میں رہ کر ٹھٹر جاتی ہے آگ
پاسباں آنکھیں ملے انگڑائی لے آواز دے
اتنے عرصے میں تو اپنا کام کر جاتی ہے آگ
آنسوؤں سے کیا بجھے گی دوستو دل کی لگی
اور بھی پانی کے چھینٹوں سے بھڑک جاتی ہے آگ
حل ہوئے ہیں مسئلے شبنم مزاجی سے مگر
گتھیاں ایسی بھی ہیں کچھ جن کو سلجھاتی ہے آگ
یہ بھی اک حساس دل رکھتی ہے پہلو میں ضرور
گدگداتا ہے کوئی جھونکا تو بل کھاتی ہے آگ
جب کوئی آغوش کھلتا ہی نہیں اس کے لئے
ڈھانپ کر منہ راکھ کے بستر میں سو جاتی ہے آگ

امن ہی کے دیوتاؤں کے اشارے پر حفیظؔ
جنگ کی دیوی کھلے شہروں پہ برساتی ہے آگ


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام