خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا


27-12-2015 | امجد اسلام امجدؔ

خزاں کی شام کو ۔۔۔ صبحِ بہار تُو نے کیا

مرے خدا۔۔ مرے پروردگار تُو نے کیا

میں یوں ہی خاک کی پستی میں ڈولتا رہتا

ترا کرم کہ ۔۔مجھے استوار ۔۔ تُو نے کیا

خطا کے بعد خطا پے بہ پے ہوئی مجھ سے

معاف مجھ کو مگر ۔۔۔۔ بار بار تُو نے کیا

ہوا خلاف تھی ۔۔ موسم کا ذائقہ تھا تلخ

ہر ایک شئے کو مگر خوشگوار ۔۔ تُو نے کیا

چلا جو مَیں ترے رستے پہ میرے صحرا کو 

امنڈتے ابر دیئے ۔۔۔ مرغزار تُو نے کیا

مرے قلم پہ ہوئی جس گھڑی نظر تیری

مرے سخن کو ، مجھے، ذی وقار تُو نے کیا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
خزاں کی شام کو صبحِ بہار تُو نے کیا
چہرے پہ میرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن
حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارا ہے
بے کراں شب میں کہیں ایک ستارہ ہی سہی
جو دیکھنے کا تمہیں اہتمام کرتے ہیں