شکوہ کیا جفا کا تو نم دیدہ ہوگئے

غزل| منشی رشید انورؔ انتخاب| بزم سخن

شکوہ کیا جفا کا تو نم دیدہ ہو گئے
تم تو ذرا سی بات پہ رنجیدہ ہو گئے
اللہ رے! تمہارے تبسم کی شوخیاں
زخمِ جگر بھی دیکھ کے خندیدہ ہو گئے
کھینچی جو دستِ شوق نے ان کی نقابِ رخ
جلوے فرازِ بام پہ رقصیدہ ہو گئے
بچپن کی شوخیوں سے تو وہ بے خبر رہے
آیا شباب اُن پہ تو فہمیدہ ہو گئے
کچھ اس طرح سے کوندی نشیمن پہ بجلیاں
اہلِ چمن بھی دیکھ کے لغزیدہ ہو گئے
نکلا جو میں وفورِ جنوں میں دیار سے
رستے حریمِ حسن کے پیچیدہ ہو گئے
تابِ نظارہ لا نہ سکی جب میری نظر
جلوے کسی کے حسن کے پوشیدہ ہو گئے
دامِ بلا میں پھنس کے جو تڑپا ہمارا دل
زلفوں کے جال اور بھی پیچیدہ ہو گئے
انورؔ حواس و ہوش سے بیگانہ تھے مگر
آئے جو میکدے میں تو سنجیدہ ہو گئے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام