زباں پر جب حبیبِ کبریا کا نام آتا ہے


26-11-2015 | ابن حسؔن بھٹکلی

زباں پر جب ۔۔۔ حبیبِ کبریا کا نام آتا ہے

دلِ مضطر کو ۔۔۔  میرے دفعتاً آرام آتا ہے

قلم کو تقویت ملتی ہے ان کی مدح لکھنے سے

کئی کمزور لفظوں میں۔۔۔بھی استحکام آتا ہے

درود پاک سے ۔۔جس کی زباں مانوس ہو جائے

کہاں وہ ۔۔۔ زیرِ دامِ گردشِ ایام ۔۔۔ آتا ہے

وہی ہے سرور کونین۔۔۔ کا پیرو حقیقت میں

ہمیشہ بےکس و نادار ۔۔۔ کے جو کام آتا ہے

یہ میری خوش نصیبی ہے کہ ان کا امتی ہوں میں

کہاں ہر شخص کی قسمت۔۔ میں یہ انعام آتا ہے

نہیں میں نے ابهی دیکھا نہیں ہے روضۂ اطہر

مگر میرے تصور میں ۔۔ وہ صبح و شام آتا ہے

 

وہ جس کی فکر کا محور ہی مدحِ مصطفےٰ ٹہرا

اسے ابن حسؔن پهر کیا خیالِ خام آتا ہے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
خود پہ نافذ کیجئے کردار سازی کا عمل
چهو چهو کے اڑ رہی ہیں اسے شوخ تتلیاں
چلنا بھی ہے چلنے کا ارادہ بھی نہیں ہے
سب کچھ دھواں دھواں تھا مگر دیکھتے رہے
دسترس میں ہو نہ ہو کچھ اور بس یوں ہی سہی