زباں پر جب حبیبِ کبریا کا نام آتا ہے

ابن حسؔن بھٹکلی
زباں پر جب حبیبِ کبریا کا نام آتا ہے
دلِ مضطر کو میرے دفعتاً آرام آتا ہے
قلم کو تقویت ملتی ہے ان کی مدح لکھنے سے
کئی کمزور لفظوں میں بھی استحکام آتا ہے
درود پاک سے جس کی زباں مانوس ہو جائے
کہاں وہ زیرِ دامِ گردشِ ایام آتا ہے
وہی ہے سرور کونین کا پیرو حقیقت میں
ہمیشہ بے کس و نادار کے جو کام آتا ہے
یہ میری خوش نصیبی ہے کہ ان کا امتی ہوں میں
کہاں ہر شخص کی قسمت میں یہ انعام آتا ہے
نہیں میں نے ابهی دیکھا نہیں ہے روضۂ اطہر
مگر میرے تصور میں وہ صبح و شام آتا ہے

وہ جس کی فکر کا محور ہی مدحِ مصطفےٰ ٹہرا
اسے ابن حسؔن پهر کیا خیالِ خام آتا ہے

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام