کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا


24-11-2015 | جگرؔمرادآبادی

کام ۔۔۔۔ آخر جذبۂ ۔۔۔۔۔ بے اختیار آ ہی گیا

دل کچھ اس صورت سے تڑپا اُن کو پیار آ ہی گیا

جب نگاہیں اُٹھ گئیں اللہ رے۔۔ معراجِ شوق

دیکھتا کیا ہوں ۔۔۔۔۔  وہ جانِ انتظار آ ہی گیا

ہائے یہ حسنِ تصور ۔۔۔۔ کا فریبِ رنگ و بو

میں یہ سمجھا جیسے ۔۔۔۔ وہ جانِ بہار آ ہی گیا

ہاں سزا دے ائے خدائے عشق ائے توفیقِ غم

پھر زبانِ بے ادب پر ۔۔۔۔ ذکرِ یار آ ہی گیا

اس طرح خوش ہوں کسی کے وعدۂ فردا پہ میں

در حقیقت ۔۔۔ جیسے مجھ کو ۔۔۔  اعتبار آ ہی گیا

ہائے ! کافر دل کی یہ کافر ۔۔۔ جنوں انگیزیاں

تم کو پیار آئے نہ آئے ، مجھ کو پیار آ ہی گیا

درد نے کروٹ ہی بدلی تھی کہ دل کی آڑ سے

دفعتاً ۔۔ پردہ اُٹھا اور ۔۔۔۔ پردہ دار آ ہی گیا

دل نے اک نالہ کیا آج اس طرح دیوانہ وار

بال بکھرائے کوئی ۔۔۔۔۔ مستانہ وار آ ہی گیا

 

جان ہی دے دی جگرؔ نے آج کوئے یار پر

عمر بھر کی بے قراری ۔۔ کو قرار آ ہی گیا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا
نہیں جاتی کہاں تک فکرِ انسانی نہیں جاتی
ساقی کی ہر نگاہ پہ بل کھا کے پی گیا
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
نہ اب مسکرانے کو جی چاہتا ہے