خانہ ویرانی سے کتنا خوش دلِ مایوس ہے

غزل| مخمورؔ سعیدی انتخاب| بزم سخن

خانہ ویرانی سے کتنا خوش دلِ مایوس ہے
یہ وہی منظر ہے جس سے یہ نظر مانوس ہے
اپنے گرد و پیش سے باہر نکل سکتا نہیں
حال کے زنداں میں کب سے آدمی محبوس ہے
لمحہ لمحہ بے خیالی میں بہی جاتی ہے عمر
روز و شب کا سلسلہ اک سیلِ نامحسوس ہے
جسم کی دیوار کا سایہ گراں ہے روح پر
روشنی اس شمع کی آزردۂ فانوس ہے
مصلحت کی چار دیواری سے رہیئے دور دور
اہلِ دل کے حق میں اس گھر کی فضا منحوس ہے
دیکھ کر اپنا ہی سایہ لوگ ڈر جاتے ہیں کیوں
جو ڈراتا ہے انہیں کس خوف کا کابوس ہے
بن سنور کر خلوتِ احساس سے نکلا یہ کون
زیبِ تن الفاظ کا کتنا حسیں ملبوس ہے
یہ دمِ فکرِ سخن گُل کاریٔ نوکِ قلم
صفحۂ قرطاس ہم رنگِ پرِ طاؤس ہے

زندگی کے سامنے مخمورؔ پھیلاؤ نہ ہاتھ
زندگی سے کیا ملے گا زندگی کنجوس ہے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام