ارباب زر کےمنہ سے جب بولتا ہے پیسہ


08-06-2015 | محمد حسین فطرتؔ

ارباب زر کےمنہ سے ... جب بولتا ہے پیسہ

کڑوی حقیقتوں میں ...... رس گھولتا ہے پیسہ

 

 

 

 

 

   

زنجیرِ پائے مجرم ....  بھی اس سے ٹوٹتی ہے

ہاتھوں کی بیڑیوں کو .... بھی کھولتا ہے پیسہ 

یہ شیخی و تعلّی ........ یہ چرخ بوس دعوے

تم بولتے نہیں ہو .......... یہ بولتا ہے پیشہ

 

   
   

کل وعظ کر رہے تھے محفل میں ایک واعظ

دروازہ باغِ جنت ........ کا کھولتا ہے پیسہ

 

اُس وقت ہم سے سارے ہنستے ہیں بولتے ہیں

جیبوں میں اپنی فطرتؔ ، جب بولتا ہے پیسہ




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
ہم شانہ کشِ زلفِ گیتی،ترانہ جامعہ اسلامیہ بھٹکل
اگر خدمتِ خلق کی ہو سعادت
کنارے پہ دریا کے مردہ پڑا تھا
محبوبِ کبریا سے میرا سلام کہنا
کلی اداس سہی پھول بے قرار سہی