وہ نبض کی رفتار کہ چھٹتے ہیں پسینے

پنڈت آنند نرائن ملاؔ
وہ نبض کی رفتار کہ چھٹتے ہیں پسینے
لگتے نہیں دنیا ترے جینے کے قرینے
نظروں میں ہمیں ہم تھے کسی بزم میں جب تھے
اٹھ آئے بھولے سے بھی پوچھا نہ کسی نے
بن جاتے ہیں ، تقدیر بدلتی ہے جہاں رخ
چڑھتے ہوئے زینے ہی اترتے ہوئے زینے
اب نجمِ فلک بن کے دکھاتے ہیں ہمیں آنکھ
ذرّے وہی کل جن کو اچھالا تھا ہمیں نے
بے کس پہ ستم توڑنے والوں میں نہ ڈھونڈو
جرأت وہ جو خنجر کفِ سفّزشاک سے چھینے
آغوش میں ساحل کی جو گزری وہ نہ پوچھو
طوفاں کو صدا دینے لگے پھر سے سفینے
وہ شوق کی بستی ہے نہ اشکوں کے چراغاں
اب دیدہ و دل ہیں کہ ہیں یادوں کے دفینے
میخانے میں یوں وعظ کناں ملّاؔ تھا کل رات
شعلہ بہ یسارے و نگارے بہ یمینے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام