خیر سراپا سرورِ عالم ، صلی اللہ علیہ وسلم

ابو المجاہد زاہدؔ
خیر سراپا سرورِ عالم ، صلی اللہ علیہ و سلم
حسنِ مکمل ، عشقِ مجسّم ، صلی اللہ علیہ و سلم
جس نے دکھائی راہِ ہدایت جس نے مٹائی کفر کی ظلمت
ہادیٔ کامل ، نیّرِ اعظم ، صلی اللہ علیہ و سلم
جس کی شریعت مظہرِ فطرت جس کی رسالت مصدرِ رحمت
جس کی بِنائے دیں مستحکم ، صلی اللہ علیہ و سلم
ٹوٹے ہوئے دل جس نے جوڑے بغض و حسد کے بندھن توڑے
لطف و کرم ہے جس کا مسلم ، صلی اللہ علیہ و سلم
بھٹکے ہوؤں کو راہ پہ لایا جو بھی کہا وہ کر کے دکھایا
علم وعمل کا واحد سنگم ، صلی اللہ علیہ و سلم
منبعِ حکمت ، کانِ بصیرت ، عین صداقت ، جانِ شرافت
افضل و اعلیٰ ، اکرم و اعظم ، صلی اللہ علیہ و سلم
مہبطِ قرآں ، جلوۂ فاراں ، صبحِ منوّر ، مہر درخشاں
اسرارِ توحید کا محرم ، صلی اللہ علیہ و سلم
امن و اماں کا جو ہے مؤسّس جس کا ثنا خواں ہر متنفّس
بعشت جس کی لطفِ متمّم ، صلی اللہ علیہ و سلم
حضرت عیسیؑ جس کی مخبِر حضرت موسیٰ جس کی مبشّر
فخرِ خلیلؑ و نازشِ آدمؑ ، صلی اللہ علیہ و سلم
عرش ہے جس کا فرش کفِ پا جس کو حق نے وہاں پہنچایا
ذرّے سے کونین جہاں کم ، صلی اللہ علیہ و سلم
جس کی یاد سے زاہدؔ شاداں جس کی محبت جانِ ایماں
صلی اللہ علیہ و سلم ، صلی اللہ علیہ و سلم

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام