پھولوں نے بھی پائی ہے لطافت ترے دم سے

سمعانؔ خلیفہ
پھولوں نے بھی پائی ہے لطافت ترے دم سے
بلبل نے بھی سیکھی ہے فصاحت ترے دم سے
صناعِ ازل نے جو تراشا ترا پیکر
ہے حسنِ دو عالم کی نزاکت ترے دم سے
اعجازِ نبوت ترا پُر نور سا چہرہ
خورشیدِ جہاں تاب کی طلعت ترے دم سے
آکاش کے ماتھے پہ ترے حسن کا جھومر
ہے چاند ستاروں کی بھی زینت ترے دم سے
خلاقِ جہاں نے ترا کردار سنوارا
دنیا میں ہے اخلاق کی رفعت ترے دم سے
انفاس نے مہکائی محبت کی وہ خوشبو
الفاظ نے سیکھی ہے حلاوت ترے دم سے
کردار کو بخشی ہیں طہارت کی قبائیں
جذبوں نے بھی پائی ہے صداقت ترے دم سے

الہام کی رم جھم سے خیالات ہوئے تر
سمعاںؔ کے سخن میں ہے طراوت ترے دم سے

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام