حسینوں سے تمہاری دوستی اچھی نہیں لگتی

نیازؔ سواتی
حسینوں سے تمہاری دوستی اچھی نہیں لگتی
بڑھاپے میں یہ عشق و عاشقی اچھی نہیں لگتی
مزا کچھ اور ہی تھا پی ڈبلیو ڈی کی سروس کا
ہمیں اب اور کوئی نوکری اچھی نہیں لگتی
الیکشن میں تو ہر ووٹر پر اپنی جاں چھڑکتے تھے
اب ان سے رہنماؤ بے رخی اچھی نہیں لگتی
کھلائے جو بھی حلوہ تم اسی کا ساتھ دیتے ہو
ہمیں واعظ تمہاری پالیسی اچھی نہیں لگتی

رگڑنا پڑ رہا ہے سر ہر اک ووٹر کے پاؤں پر
اسی باعث تو ہم کو ممبری اچھی نہیں لگتی

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام