اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گا

غزل| اعجازؔ رحمانی انتخاب| بزم سخن

اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گا
سورج کو سمندر میں اترنا ہی پڑے گا
فطرت کے تقاضے کبھی بدلے نہیں جاتے
خوشبو ہے اگر وہ تو بکھرنا ہی پڑے گا
پڑتی ہے تو پڑ جائے شکن اس کی جبیں پر
سچائی کا اظہار تو کرنا ہی پڑے گا
ہر شخص کو آئیں گے نظر رنگ سحر کے
خورشید کی کرنوں کو بکھرنا ہی پڑے گا
میں سوچ رہا ہوں یہ سر شہر نگاراں
یہ اس کی گلی ہے تو ٹھہرنا ہی پڑے گا
اب شانۂ تدبیر ہے ہاتھوں میں ہمارے
حالات کی زلفوں کو سنورنا ہی پڑے گا

اک عمر سے بے نور ہے یہ محفل ہستی
اعجازؔ کوئی رنگ تو بھرنا ہی پڑے گا


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام