پھول جو کھلاتے تھے گاؤں کی زمینوں میں

غزل| ڈاکٹر حنیف شبابؔ انتخاب| بزم سخن

پھول جو کھلاتے تھے گاؤں کی زمینوں میں
جڑ گئے وہی موسم شہر کی مشینوں میں
چاند بھی نہیں اگتے ذہن کے دریچوں میں
تاب بھی نہیں باقی حسن کے نگینوں میں
کس بلا کی ویرانی چھا گئی ہے شہروں پر
وحشتیں مکانوں میں دہشتیں مکینوں میں
ہم ادیب و شاعر ہیں، ہم حدیثِ دل لکھیں
اور دفن ہو جائیں وقت کے صحیفوں میں

سر مرا اچھالا ہے جس نے اپنے نیزے پر
وہ نہ تھا یزیدوں میں تھا مرے عزیزوں میں


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام