وہ جو نہیں ہیں بزم میں بزم کی شان بھی نہیں

اثرؔ رامپوری
وہ جو نہیں ہیں بزم میں بزم کی شان بھی نہیں
پھول ہیں دل کشی نہیں چاند ہے چاندنی نہیں
ڈھونڈا نہ ہو جہاں انہیں ایسی جگہ کوئی نہیں
پائی کچھ ان کی جب خبر اپنی خبر رہی نہیں
آنکھ میں ہو پرکھ تو دیکھ حسن سے پر ہے کل جہاں
تیری نظر کا ہے قصور جلووں کی کچھ کمی نہیں
عشق میں شکوہ کفر ہے اور ہر التجا حرام
توڑ دے کاسۂ مراد عشق گداگری نہیں
جوشِ جنونِ عشق نے کام مرا بنا دیا
اہلِ خرد کریں معاف حاجتِ آگہی نہیں
اف یہ نشیلی انکھڑیاں ہائے یہ مستیٔ شباب
مانا کہ تم نے پی نہیں کون کہے گا پی نہیں

ہجر کی شب گزر گئی پھر بھی اثرؔ یہ حال ہے
سامنے آفتاب ہے اور کہیں روشنی نہیں

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام