نعت لکھنے کے تصوّر سے لرز جاتا ہوں

محمد حسین فطرتؔ
نعت کیا لکھوں یہی سوچ کے گھبراتا ہوں
میں قلم ہاتھ میں لیتے ہوئے رُک جاتا ہوں
اپنی کم مائیگیٔ علم پہ شرماتا ہوں
خود کو واللہ میں نا اہل بہت پاتا ہوں
نعت لکھنے کے تصوّر سے لرز جاتا ہوں
نعت گو تجھ کو مرا شیوۂ تکریم ملے
خامۂ دل ، ورقِ جذبۂ تسلیم ملے
روشنائی کے لیے کوثر و تسنیم ملے
نعت لکھنے کے جو آداب ہیں بتلاتا ہوں
نعت لکھنے کے تصوّر سے لرز جاتا ہوں
لا جرم یہ درِ شاہِ عربیؐ ہے یارو
جنبشِ خامہ یہاں بے ادبی ہے یارو
عشق بے سوزِ جگر بولہبی ہے یارو
بات جو حق ہے وہی تم کو میں بتلاتا ہوں
نعت لکھنے کے تصوّر سے لرز جاتا ہوں
آج فرسودہ روایات ہیں نعتوں کا لباس
شرک و بدعت کے خیالات پہ ہے جن کی اساس
نہیں مدّاح کو توحید کے آداب کا پاس
نعت میں پرتوِ اخلاص کہاں پاتا ہوں
نعت لکھنے کے تصوّر سے لرز جاتا ہوں
مجھ سے تو نعت سنانے کی نہ کر فرمائش
نہیں غمازِ جنون تیری یہ چھوٹی خواہش
بس تصنّع ہے نہیں دل میں ترے کوئی خلش
میں ترے عیب تیرے سامنے دہراتا ہوں
نعت لکھنے کے تصوّر سے لرز جاتا ہوں
کوئی کہتا ہے نبیؐ تم مری جھولی بھر دو
کوئی چلاتا ہے آساں مری مشکل کر دو
کوئی کہتا ہے مجھے دولت و مال و زر دو
شرک و بدعت کے ان الفاظ پہ تھرّا تا ہوں
نعت لکھنے کے تصوّر سے لرز جاتا ہوں
نعت لکھتے ہو مگر نعت کا کچھ پاس نہیں
خوں رگ و پے میں نہیں قلب میں احساس نہیں
بس تصنّع ہے کوئی درد کا عکاس نہیں
دل کی نگری کو میں ویران بہت پاتا ہوں
نعت لکھنے کے تصوّر سے لرز جاتا ہوں
آج نعتوں میں نہیں فرقِ رسول و معبود
یا نبیؐ کہہ کے مدد مانگنا کارِ مسعود
مشتمل شرکیہ الفاظ پہ ہیں کتنے درود
میں مسلمان ہوں ہر شرک سے گھبراتا ہوں
نعت لکھنے کے تصوّر سے لرز جاتا ہوں

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام