میں تجھے بھول نہ پاؤں گا بھلانے والے

غزل| پیامؔ سعیدی انتخاب| بزم سخن

میں تجھے بھول نہ پاؤں گا بھلانے والے
یوں ہی دیتے ہیں تسلّی یہ زمانے والے
کہیں تجھ کو بھی نہ تڑپا دے تڑپنا میرا
مجھ کو بھولے ہوئے غم یاد دلانے والے
اب محبت میں وہ گرمی ہے نہ باتوں میں خلوص
دل ملاتے ہی نہیں ہاتھ ملانے والے
ابر نے شعلے سمندر نے شرارے بانٹے
آگ برسانے لگے پیاس بجھانے والے
ہر طرف مورتیں پھتر کی نظر آتی ہیں
کیا ہوئے شیشہ بدن آئینہ خانے والے
بے لباسی سے بھلا شاخ پہ کیا گزرے گی
یہ نہیں سوچتے پھل توڑ کے جانے والے

یاد بن بن کے چلے آتے ہیں دل میں اے پیامؔ
مت کہو لوٹ کے آتے نہیں جانے والے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام