ورق پلٹا تو کچھ ہم کو جداگانہ نظر آیا

غزل| اقبالؔ سعیدی انتخاب| بزم سخن

ورق پلٹا تو کچھ ہم کو جداگانہ نظر آیا
حقائق کے ہی آئینے میں افسانہ نظر آیا
اُسے اپنا سمجھنے کی ہماری بھول تھی شاید
جو دیکھا دور رس نظروں سے بیگانہ نظر آیا
شبیہ و شکل و صورت سے پرکھنا غیر ممکن ہے
جنونِ عشق میں دانا بھی دیوانہ نظر آیا
دلائل بھی نظر آئے حقائق بھی نظر آئے
کلامِ حق کا ہر کلمہ حکیمانہ نظر آیا
زمینِ شعر میں الفاظ کے موتی پروتا ہے
سخنور کا سخن انمول نذرانہ نظر آیا
کہیں آنکھوں میں اشکِ خوں کہیں آہیں کہیں نالے
کہیں فریاد سے لبریز پیمانہ نظر آیا
وہی نورِ الہی دو جہاں میں ہر سو پھیلا ہے
جھلک سے جس کی طور اک آئینہ خانہ نظر آیا
یہی رب کی مشیّت تھی بشر دنیا کی زینت ہو
بظاہر سب کو تو گندم کا اک دانہ نظر آیا

نہ جانے کیوں پرائے ہوگئے اقبالؔ اپنے بھی
ہجومِ شہر میں ہر چہرہ انجانا نظر آیا


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام